بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ٹیلی گرام چینل کاوُش میڈیا نے مصری تجزیہ کار خلیل العنانی کی ایک ویڈیو شائع کی ہے، جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
مصری تجزیہ کار اور سیاسیات کے پروفیسر خلیل العنانی:
ووٹروں کو دیئے گئے جھوٹے وعدوں میں سے سب سے نمایاں جھوٹا وعدہ یہ تھا کہ وہ بیرونی جنگوں میں کودنے سے پرہیز کرے گا۔ وہ اس [جنگجوئی کے اپنے شدید موجودہ رجحانات] کے برعکس اس بات پر فخر کرتا تھا اور ان تمام سابقہ ـ ریپبلکن اور ریپلکن ـ سربراہوں پر تنقید کرتا تھا جنہوں نے گذشتہ 25 سالہ عرصے میں امریکہ کو غیر ملکی جنگوں میں اتار دیا تھا۔ وہ مسلسل اعلان کرتا تھا کہ "میں وہ واحد شخص ہوں، جو کبھی بھی ایسا کام نہیں کروں گا" حالانکہ یہ دعوے سراسرے جھوٹے تھے۔ اب اس کے برسراقتدار آنے کا ایک سال کا عرصہ نہیں گذرا تھا کہ وہ امریکہ کی خطرناک ترین جنگ کے میدان میں داخل ہؤا!
ایران کے خلاف جنگ سنہ 1956ع میں نہر سوئز کے بحران سے مکمل شباہت رکھتی ہے، جو برطانوی سلطنت کے زوال کا آغاز ثابت ہؤا۔
یہ وہ تجزیہ تھا جو میں نے دو سال قبل بھی اسی طرح کے حالات میں، پیش کیا تھا؛ یہ کہ عین ممکن ہے کہ ایران کے خلاف جنگ، پوری دنیا میں ریاست ہائے متحدہ کی بالادستی کے زوال اور شکست و ریخت کا نقطۂ آغاز ثابت ہوجائے۔
موجودہ واقعات اس حقیقت کی واضح شہادت دیتے ہیں!
اس وقت خطے میں امریکی فوجی اڈے وسیع پیمانے پر تباہ اور ویران ہو چکے ہیں، اور اس وقت امریکہ کے اندر خطے سے پسپائی کے باضابطہ مطالبات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اس جنگ کے لئے ادا کی گئی قیمت انتہائی شدید اور بھاری تھی اور ٹرمپ کو، اس فائل میں، اپنے تمام تر وعدے کو پس پشت ڈالنا پڑے ہیں۔
چنانچہ ایران کے خلاف جنگ کے مسئلے نے نہ صرف مالی اور اقتصادی لحاظ سے اخراجات عائد کئے ہیں، ـ خواہ براہ راست طور پر، بجٹ پر بوجھ بن کر، خواہ توانائی کے مختلف مواد کی قیمتوں میں شدید اضافے کی شکل میں ـ بلکہ اس کے علاوہ، دنیا میں امریکی کی تحقیر و تذلیل کا سبب بنا ہے، اور امریکہ کی ہیبت اور بین الاقوامی ساکھ کو مکمل طور پر برباد کر دیا ہے! یہاں تک کہ آج امریکہ عملی طور پر زدپذیر ہوچکا ہے، اور چھدرن بیگ (Punching bag) بن چکا ہے۔
اور ہاں اس بات پر بھی توجہ دیں کہ آج اس جنگ میں امریکہ کے تمام نقصانات اور ہلاکتوں کا اعلان نہیں ہوتا؛ اور ہر روز ایسی رپورٹیں شائع ہوتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نقصانات کی جہتیں بہت وسیع تر ہیں۔
جیسا کہ کل ہی [حال ہی میں]، امریکی کانگریس کے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ امریکی فوج 81 فوجی طیارے اس جنگ میں کھو گئی ہے!
یہ وہ اعدادو شمار ہیں جن کا اس سے پہلے اعلان نہیں ہؤا تھا، اس بات سے قطع نظر کہ اس جنگ کے جانی نقصانات کتنے تھے۔
چند روز قبل امریکی سینیٹر کرس مورفی نے قطر کا دورہ کیا اور انھوں نے کچھ عجیب مگر بہت اہم انکشافات کئے؛ کہا: وزیر جنگ [پیٹ ہیگستھ] کی ہدایت پر انہیں انہیں قطر میں امریکہ کے العدید ایئربیس میں داخل نہیں ہونے دیا گیا!"
انھوں نے کہا: "بظاہر، یہ اقدام اس لئے عمل میں آیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں اس امریکی فوجی اڈے کو پہنچنے والے نقصانات کی وسعتوں سے مطلع ہوجاؤں۔"ویڈیو دیکھئے:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ